لیہ: تھانہ کوٹ سلطان میں زیادتی کے مقدمے پر سنسنی خیز موڑ، ملزم گرفتار نہ ہونے پر متاثرہ خاتون کی خودکشی کی کوشش، پولیس کا باضابطہ مؤقف بھی سامنے آگیا!
لیہ: تھانہ کوٹ سلطان میں زیادتی کے مقدمے پر سنسنی خیز موڑ، ملزم گرفتار نہ ہونے پر متاثرہ خاتون کی خودکشی کی کوشش، پولیس کا باضابطہ مؤقف بھی سامنے آگیا!
لیہ کے نواحی علاقے تھانہ کوٹ سلطان کی حدود میں ایک انتہائی افسوسناک اور سنگین واقعہ پیش آیا ہے، جہاں مبینہ زیادتی کے مقدمے میں نامزد ملزم کی عدم گرفتاری سے مایوس ہو کر مدعیہ (متاثرہ خاتون) نے زہریلی گولی کھا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ خاتون کو فوری طور پر تشویشناک حالت میں تحصیل ہیڈ کوارٹر (THQ) ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ڈاکٹرز ان کی جان بچانے کی سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں۔ اس حساس معاملے پر عوامی حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑنے کے بعد اب لیہ پولیس کا باقاعدہ اور تفصیلی مؤقف بھی سامنے آ چکا ہے۔
🔹 سنسنی خیز پس منظر اور خاتون کا انتہائی قدم:
ذرائع کے مطابق یہ پورا معاملہ محمد کالو کی مدعیت میں عمرانی (عمران) نامی ملزم کے خلاف درج کیا گیا تھا، جس میں ملزم پر خاتون کے ساتھ مبینہ زیادتی کا سنگین الزام عائد ہے۔ متاثرہ فریق کا مؤقف تھا کہ پولیس ملزم کو گرفتار کرنے میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہے، جس سے دلبرداشتہ ہو کر خاتون نے یہ انتہائی قدم اٹھایا۔
🔹 لیہ پولیس کا باضابطہ مؤقف اور حقائق:
معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے لیہ پولیس کے ترجمان نے کیس کی اصل قانونی صورتحال واضح کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پولیس قانون کے مطابق اپنی کارروائی مکمل میرٹ پر کر رہی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق:
🔬 ڈی این اے ٹیسٹ (DNA Test): زیادتی کے مقدمے کے مرکزی ملزم عمران اور مدعیہ خاتون دونوں کے ڈی این اے نمونے حاصل کر کے لیبارٹری بھجوائے جا چکے ہیں جن کی رپورٹ کا انتظار ہے۔
⚖️ ملزم کی عبوری ضمانت: نامزد ملزم عمران اس وقت عدالت عالیہ سے "عبوری ضمانت" (Interim Bail) پر ہے اور قانون کے مطابق ضمانت پر موجود کسی بھی شخص کو پولیس براہِ راست گرفتار نہیں کر سکتی۔
🔍 میرٹ پر تفتیش کا یقین: پولیس انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کیس کی تفتیش کو مکمل طور پر حقائق اور سائنسی شواہد کی بنیاد پر یکسو کیا جائے گا اور کسی بھی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر متاثرہ خاتون کو ہر صورت انصاف فراہم کیا جائے گا۔
مقامی صحافتی برادری اور سماجی تنظیموں کی جانب سے ہسپتال انتظامیہ اور پولیس حکام سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ خاتون کی جان بچانے کے ساتھ ساتھ کیس کے تمام پہلوؤں کو شفاف طریقے سے سامنے لایا جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔
ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔
نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Comments
Post a Comment