ماموں کانجن: خاتون سے مبینہ زیادتی اور بلیک میلنگ کا معاملہ، ملزم کا نکاح نامے کے ساتھ جوابی دعویٰ، تفتیش کا رخ بدل گیا!

 ماموں کانجن: خاتون سے مبینہ زیادتی اور بلیک میلنگ کا معاملہ، ملزم کا نکاح نامے کے ساتھ جوابی دعویٰ، تفتیش کا رخ بدل گیا!

ماموں کانجن (ویب ڈیسک): طارق کالونی ماموں کانجن میں درج ہونے والے ایک ہائی پروفائل مقدمے نے اس وقت نیا رخ اختیار کر لیا ہے جب نامزد ملزم کی جانب سے قانونی دستاویزات اور نکاح نامہ سامنے لاکر خاتون کے الزامات کو چیلنج کر دیا گیا ہے۔ پولیس اب معاملے کے دونوں پہلوؤں پر باریک بینی سے تفتیش کر رہی ہے۔  دستاویزی شواہد سامنے آنے کے بعد کیس انتہائی پچیدہ صورتحال اختیار کر گیا ہے۔

📌 خاتون کے الزامات اور ابتدائی مقدمہ:
گزشتہ روز طارق کالونی ماموں کانجن کی رہائشی ایک خاتون نے مقامی پولیس اسٹیشن میں محمد احسان عرف نومی نامی شخص کے خلاف ایک سنگین مقدمہ درج کروایا تھا۔ خاتون کا مؤقف تھا کہ ملزم نے ان کے ساتھ مبینہ طور پر قانون شکنی اور زیادتی کی، نجی نوعیت کی قابل اعتراض ویڈیوز بنائیں اور بعد میں انہیں وائرل کرنے کی دھمکیاں دے کر بلیک میلنگ اور رقم کی وصولی کا سلسلہ شروع کیا۔ 📄 دباؤ اور ہراساں کیے جانے کے بعد خاتون نے انصاف کے لیے قانون کا دروازہ کھٹکھٹایا۔



ملزم کا مؤقف اور نکاح نامے کا دعویٰ:
مقدمہ درج ہونے کے بعد نامزد ملزم محمد احسان بلوچ (ایڈووکیٹ) کی جانب سے بھی اپنا باقاعدہ مؤقف اور دفاعی شواہد پیش کر دیے گئے ہیں۔ ملزم نے خاتون کے تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ خاتون نے 17 فروری 2025 کو مکمل رضامندی کے ساتھ ان سے باقاعدہ نکاح کیا تھا۔  ملزم کے قانونی نمائندوں کی جانب سے نکاح نامہ اور مبینہ رضامندی پر مبنی ایک ویڈیو بھی میڈیا اور تفتیشی حکام کے ساتھ شیئر کی گئی ہے۔

بیوی کی ویڈیوز کون شیئر کرے گا؟ اہم سوال:
ملزم کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر میں لگائے گئے قابل اعتراض مواد کو شیئر کرنے اور بلیک میلنگ کے الزامات بالکل بے بنیاد ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ کوئی بھی شخص اپنی قانونی بیوی کی نجی ویڈیوز کیوں شیئر کرے گا؟ مزید براں، ملزم نے الزام عائد کیا ہے کہ خاتون بعض بیرونی عناصر اور مخصوص افراد کے اکسانے پر انہیں بدنام اور بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ مالی یا ذاتی فوائد حاصل کیے جا سکیں۔

پولیس کی تحقیقات اور اگلا قدم:
سوشل میڈیا اور مقامی سطح پر اس کیس کے چرچے کے بعد پولیس حکام انتہائی الرٹ ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون کی جانب سے لگائے گئے الزامات اور ملزم کی طرف سے پیش کیے گئے نکاح نامے اور ویڈیو شواہد دونوں کا فارنزک اور قانونی جائزہ لیا جا رہا ہے۔  تفتیشی افسران کے مطابق، سچائی کیا ہے اور قصور وار کون ہے؟ اس کا حتمی فیصلہ میرٹ پر ہونے والی تفتیش اور عدالت عالیہ کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔ دونوں فریقین کو شاملِ تفتيش کر کے بیانات قلمبند کیے جا رہے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

سچ کہتے ہیں قتل کبھی نہیں چھپتا، قاتل 25 سال بعد قانون کے شکنجے میں!

انتہائی افسوسناک خبر: پاکپتن میں انسانیت لرز اٹھی! اغوا ہونے والی خاتون ٹیچر کی لاش برآمد، پورے علاقے میں کہرام مچ گیا!

بڑی خبر: ہارون آباد میں لرزہ خیز واقعہ، طالبہ نے نوجوان کو موت کے گھاٹ اتار دیا!