ایک طرف شادی کا جھانسا اور دھمکیاں، دوسری طرف 80 لاکھ کی منتقلی اور مہنگے تحائف کا دعویٰ!
خصوصی انویسٹیگیشن رپورٹ: دال میں کالا یا پوری دال ہی کالی؟ اداکارہ مومنہ اقبال اور ایم پی اے ثاقب چدھڑ اسکینڈل کے آن ریکارڈ حقائق! ایک طرف شادی کا جھانسا اور دھمکیاں، دوسری طرف 80 لاکھ کی منتقلی اور مہنگے تحائف کا دعویٰ!
لاہور/چنیوٹ (اسپیشل کرائم رپورٹر): گلیمر کی چمک دمک اور سیاست کے اثر و رسوخ کے ملاپ سے جنم لینے والا ایک ایسا ہائی پروفائل تنازع اس وقت سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں ٹاپ ٹرینڈ بنا ہوا ہے، جس نے دیکھنے اور سننے والوں کو دنگ کر دیا ہے۔ ⚖️ شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ مومنہ اقبال اور ایم پی اے ثاقب چدھڑ کے درمیان پیدا ہونے والی مبینہ قانونی اور جذباتی جنگ اب وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) یا متعلقہ تحقیقاتی حکام کی میز تک پہنچ چکی ہے۔ گزشتہ روز دونوں فریقین نے پیشی کے دوران اپنے اپنے دستاویزی ثبوت اور بیانات حکام کے حوالے کر دیے ہیں۔ 🔍📂 دونوں اطراف سے سامنے آنے والے حقائق اور الزامات اتنے سنگین ہیں کہ ہر کوئی حیران ہے۔
📌 اداکارہ مومنہ اقبال کا مؤقف:
شادی شدہ ہونے کا پتہ چلا تو پیچھے ہٹی، اب منگیتر کو پھنسایا جا رہا ہے
ذرائع کے مطابق اداکارہ مومنہ اقبال نے اپنے قانونی مشیر کے ذریعے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کی اور ثاقب چدھڑ کی جان پہچان کو چند سال ہو چکے تھے اور موصوف ان سے باقاعدہ شادی کے خواہشمند تھے۔ تاہم، کہانی میں موڑ اس وقت آیا جب اداکارہ پر یہ انکشاف ہوا کہ ایم پی اے صاحب پہلے سے نہ صرف شادی شدہ ہیں بلکہ چار بچوں کے والد بھی ہیں۔
اس حقیقت کے سامنے آتے ہی اداکارہ نے اپنے مستقبل کی خاطر تعلقات ختم کرنے اور پیچھے ہٹنے کا حتمی فیصلہ کیا۔
اداکارہ کا دعویٰ ہے کہ اب ان کی منگنی ہو چکی ہے اور چند ہی روز میں ان کا نکاح طے ہے۔ لیکن ثاقب چدھڑ اس فیصلے پر شدید برہم ہوئے اور مبینہ طور پر سنگین دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ الزامات کے مطابق اداکارہ کو ہراساں کیا گیا کہ اگر انہوں نے کسی اور سے شادی کی تو ان کے منگیتر، انہیں خود اور خود کو بھی نقصان پہنچایا جا سکتا ہے، یہاں تک کہ ثاقب چدھڑ کی پہلی اہلیہ کی جانب سے بھی مبینہ طور پر سنگین نتائج کی باتیں کی گئیں۔ اداکارہ کا کہنا ہے کہ چند روز قبل ثاقب چدھڑ نے مبینہ طور پر اپنا سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے چنیوٹ میں ان کے ہونے والے شوہر کو ایک جھوٹے مقدمے میں پھنسا دیا، جس کے بعد وہ مجبوراً تحفظ کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سامنے پیش ہوئیں۔
📌 ثاقب چدھڑ کا جوابی وار:
80 لاکھ کی منتقلی، لگژری گاڑیاں اور غیر ملکی دوروں کا پورا ریکارڈ موجود ہے
دوسری جانب ایم پی اے ثاقب چدھڑ اور ان کی لیگل ٹیم نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ایسے انکشافات کیے ہیں جنہوں نے کیس کا رخ ہی بدل دیا ہے۔ ثاقب چدھڑ کے وکیل کے مطابق دونوں کی ملاقات سال 2021 میں ہوئی جو وقت کے ساتھ گہری دوستی میں بدل گئی۔ وکیل کا دعویٰ ہے کہ اس 5 سالہ عرصے کے دوران اداکارہ اکثر اپنی مالی ضروریات کا ذکر کرتی رہیں اور ان کے موکل مختلف اوقات میں ان کی بڑی مالی مدد کرتے رہے۔
لیگل ٹیم نے دعویٰ کیا ہے کہ:
بینک ٹرانسفرز:سال 2021 سے مارچ 2025 تک تقریباً 70 سے 80 لاکھ روپے کی خطیر رقم مختلف اوقات میں اداکارہ کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی، جس کا مکمل دستاویزی ریکارڈ موجود ہے۔
* **لگژری گاڑیاں:** ایک ٹویوٹا فارچونر اور ایک ہونڈا گاڑی اداکارہ کے زیر استعمال رہیں، جن کی خریداری کے تمام پیسے ثاقب چدھڑ نے ادا کیے، جبکہ گاڑیاں اداکارہ کے نام پر رجسٹرڈ ہیں۔ 🚗🛍️
بین الاقوامی دورے:** دونوں نے کئی غیر ملکی دورے ایک ساتھ کیے جن پر ہونے والے تمام تعیشات، رہائش، شاپنگ اور سیر و تفریح کے کروڑوں کے اخراجات ثاقب چدھڑ نے برداشت کیے۔ اس کے علاوہ لاہور، اسلام آباد اور مری کے دوروں کا خرچ بھی ایم پی اے صاحب اٹھاتے رہے۔ ✈️🏨
قیمتی گھڑی کا قصہ:** وکیل کے مطابق کچھ عرصہ قبل اداکارہ ایک انتہائی قیمتی گھڑی بھی اپنے ساتھ لے گئیں اور واپسی کا مطالبہ کرنے پر مبینہ طور پر کہا کہ "یہ مجھے پسند آ گئی ہے، واپس نہیں دوں گی"۔ ⌚😉
ثاقب چدھڑ کے وکیل کا مزید کہنا ہے کہ ان کے موکل باقاعدہ رشتے کی نیت سے اداکارہ کے گھر بھی گئے تھے جہاں انہیں معلوم ہوا کہ وہ طلاق یافتہ یا خلع یافتہ ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ رشتہ قائم رکھنے میں سنجیدہ تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب اچانک الزامات اور یہ پورا تنازع صرف اس لیے کھڑا کیا گیا کیونکہ 5 سال تک ان کے موکل کے تمام وسائل اور فنڈز استعمال کرنے کے بعد اب اداکارہ کسی اور سے شادی کرنے جا رہی ہیں۔ یہ معاملہ جذباتی سے زیادہ مالی اور وسائل کے نقصان کا ہے۔ ناظرین! دونوں فریقین نے اپنے تمام مبینہ دستاویزی ثبوت تحقیقاتی ٹیم کے حوالے کر دیے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ قانون کی غیر جانبدارانہ تفتیش کے بعد سچائی کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔
ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔
نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Comments
Post a Comment