اداکارہ مومنہ اقبال ہراسانی کیس: ڈی جی NCCIA کا بڑا اور حتمی فیصلہ سامنے آ گیا!
پاکستان شوبز انڈسٹری اور سوشل میڈیا پر ہنگامہ خیز پیش رفت!
🔥 اداکارہ مومنہ اقبال ہراسانی کیس: ڈی جی NCCIA کا بڑا اور حتمی فیصلہ سامنے آ گیا!
لاہور (خصوصی نمائندہ): پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ مومنہ اقبال کو آن لائن ہراسانی کے معاملے پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے انتہائی سخت اور تیز ترین قانونی کارروائی کا اشارہ دے دیا ہے۔
📌 ایک سے دو دن میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا!
لاہور میں ایک اہم اور ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل (DG) این سی سی آئی اے نے واضح اعلان کیا ہے کہ اداکارہ مومنہ اقبال کیس کو ایجنسی کا لاہور آفس انتہائی سنجیدگی سے ڈیل کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں فریقین کی جانب سے جو بھی بیانات اور شواہد ریکارڈ ہوں گے، ان کا باریک بینی سے جائزہ لے کر اگلے 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر کیس کو منطقی انجام تک پہنچا کر مکمل کر لیا جائے گا۔
📌 خواتین کا تحفظ اور قانون کی نظر میں برابری:
ڈی جی این سی سی آئی اے نے ادارے کی ترجیحات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ:
خواتین کو ہراساں کرنے کے کیسز ہماری اولین ترجیح ہیں۔ ہمارا ادارہ غریب اور امیر میں کوئی فرق نہیں کرتا، قانون سب کے لیے برابر ہے اور انصاف میرٹ پر ہی ہوگا!
📌 صحافی برادری اور آزادیِ اظہارِ رائے پر موقف:
پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کی اہمیت کا اعتراف کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ صحافی پورے معاشرے کی آنکھیں اور کان ہیں اور وہ ہمارے لیے سب سے اہم ہیں۔
📌 ریاست مخالف عناصر کے خلاف سخت ترین کریک ڈاؤن:
سائبر اسپیس کا غلط استعمال کرنے والوں کو وارننگ دیتے ہوئے ڈی جی نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر کوئی بھی فرد یا گروہ ریاستِ پاکستان کے خلاف بات کرے گا یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر پروپیگنڈا کرے گا تو اس کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ حال ہی میں کچھ ایسے لڑکوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جو سوشل میڈیا پر سوات کو افغانستان کا حصہ قرار دینے جیسا سنگین ریاست مخالف پروپیگنڈا کر رہے تھے۔
📌 این سی سی آئی اے کی افرادی قوت اور صلاحیت:
ادارے کی کارکردگی کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس وقت ملک بھر میں این سی سی آئی اے کے 480 انتہائی تربیت یافتہ اہلکار شب و روز کام کر رہے ہیں اور ادارے کی اندرونی استعداد کار (Operational Capacity) کو مزید بڑھایا جا رہا ہے تاکہ سائبر کرائمز کا جڑ سے خاتمہ کیا جا سکے۔
ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔
نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Comments
Post a Comment