بغداد کی گلیوں میں گونجتی ایک سچی اور المناک داستان: ماں! مجھے معاف کر دینا.........
بغداد کی گلیوں میں گونجتی ایک سچی اور المناک داستان: ماں! مجھے معاف کر دینا.........
عراق (خصوصی فیچر رپورٹ): سوشل میڈیا پر اکثر و بیشتر کچھ ایسی تصاویر وائرل ہوتی ہیں جنہیں کبھی 'اسلم رئیسانی' تو کبھی کسی 'پاکستانی ملنگ' سے منسوب کر کے شیئر کیا جاتا ہے۔ لیکن اجنبی مٹی کے اس ملنگ نما انسان کے پیچھے چھپی اصل حقیقت ایک ایسا بھیانک اور دل دہلا دینے والا سانحہ ہے، جسے سن کر پتھر دل انسان کی آنکھیں بھی نم ہو جائیں۔ یہ کہانی کسی عام ملنگ کی نہیں بلکہ عراق کے ایک مایہ ناز اور نامور سرجن "ڈاکٹر مہدی" کی ہے۔
📌 میڈیکل پروٹوکول کی مجبوری اور وہ ایک ہنگامی رات:
کہتے ہیں کہ برسوں پہلے بغداد کے ایک اسپتال میں ایک انتہائی ہنگامی صورتحال پیدا ہوئی۔ ڈاکٹر مہدی کی اپنی والدہ شدید تشویشناک حالت میں ایمرجنسی میں لائی گئیں۔ قانون اور میڈیکل پروٹوکول کے مطابق کوئی بھی ڈاکٹر یا سرجن اپنے کسی قریبی خون کے رشتے دار کا آپریشن خود نہیں کر سکتا، کیونکہ اس وقت جذباتی دباؤ ہاتھ کی صفائی اور اعصاب پر حاوی ہو سکتا ہے۔ لیکن اس رات کوئی دوسرا سرجن موقع پر موجود نہیں تھا اور ماں کی زندگی سیکنڈوں کی محتاج تھی۔
📌 ماں کی موت اور ایک جیتے جاگتے انسان کی ذہنی موت:
ڈاکٹر مہدی نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے اور وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے خود اسکیلپل (سرجری کا چاقو) ہاتھ میں لیا۔ وہ اپنی ماں کو بچانے کے لیے ہر ممکن حد تک لڑے، لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ سرجری کے دوران ہی ان کی بوڑھی ماں نے ان کی نظروں کے سامنے دم توڑ دیا۔ بس یہی وہ لمحہ تھا جس نے عراقی طبی دنیا کے ایک چمکتے ستارے کو ہمیشہ کے لیے اندھیروں میں دھکیل دیا۔
📌 صدمے کی انتہا اور برسوں کا سکوت:
اپنی ہی ہرممکن کوشش کے باوجود ماں کو نہ بچا پانے کا یہ صدمہ ڈاکٹر مہدی برداشت نہ کر سکے۔ وہ اپنی یادداشت اور ذہنی توازن کھو بیٹھے۔ اس دلخراش واقعے کو اب برسوں بیت چکے ہیں۔ بغداد کے بچے جن کی گلیوں میں یہ گھومتے ہیں، انہیں دیکھتے دیکھتے جوان ہو چکے ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر مہدی نے اس واقعے کے بعد دنیا سے ناطہ توڑ لیا اور برسوں سے کسی نے بھی ان کے منہ سے ایک جملے سے زیادہ کچھ نہیں سنا۔ وہ جب بھی بولتے ہیں، روتے ہوئے بس یہی ایک جملہ دہراتے ہیں:
ماں! مجھے معاف کر دینا---------
یہ داستان ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسان چاہے کتنا ہی بڑا ماہر یا طاقتور کیوں نہ ہو جائے، وہ وقت اور تقدیر کے فیصلوں کے سامنے ہمیشہ بے بس رہتا ہے۔ 🕊️💔
ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔
نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Comments
Post a Comment