ڈنمارک میں زیرِ تعلیم پاکستانی طالب علم محمد عبداللہ انتقال کر گئے، میت وطن واپس پہنچا دی گئی.
پی ایچ ڈی کا خواب ادھورا: ڈنمارک میں زیرِ تعلیم پاکستانی طالب علم محمد عبداللہ انتقال کر گئے، میت وطن واپس پہنچا دی گئی.
تعلیمِ یافتہ اور روشن مستقبل کا خواب آنکھوں میں سجائے دیارِ غیر جانے والے بورے والا کے ہونہار طالب علم محمد عبداللہ ڈنمارک میں ایک المناک حادثے کا شکار ہو کر خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ محمد عبداللہ ڈنمارک میں اعلیٰ تعلیم کے آخری مرحلے (پی ایچ ڈی) میں تھے اور جلد ہی اپنی ڈگری مکمل کر کے وطن واپس لوٹنے والے تھے، تاہم زندگی نے ان سے وفا نہ کی۔ 🥀
🔹 محنت، قابلیت اور امیدوں کا سفر:
محمد عبداللہ کا تعلق پنجاب کے شہر بورے والا کے ایک متوسط اور غریب گھرانے سے تھا۔ انہوں نے محدود وسائل کے باوجود اپنی محنت، لگن اور غیر معمولی قابلیت کے بل بوتے پر اسکالرشپ حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم کے لیے ڈنمارک روانہ ہوئے۔ خاندان اور بالخصوص ان کی والدہ کو امید تھی کہ عبداللہ پی ایچ ڈی مکمل کر کے نہ صرف ملک کا نام روشن کریں گے، بلکہ اپنے خاندان کو بھی ایک خوشحال مستقبل دیں گے۔ علم کی تلاش میں نکلنے والا یہ نوجوان اپنے تعلیمی سفر کے بالکل آخری مراحل میں تھا جب 24 مئی کو ڈنمارک میں ایک حادثہ پیش آیا، جس میں وہ جانبر نہ ہو سکے۔
🔹 ایک غریب خاندان پر صدمات کا پہاڑ:
مقامی ذرائع کے مطابق یہ المناک واقعہ اس خاندان کے لیے پہلا صدمہ نہیں ہے۔ محمد عبداللہ سے قبل ان کے دو بھائی بھی مختلف حادثات میں اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ دو بیٹوں کو کھونے کے بعد عبداللہ ہی اپنی بوڑھی ماں کی آخری امید اور خاندان کا واحد سہارا تھے۔ عبداللہ کی ناگہانی موت کی خبر نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا ہے اور اہل خانہ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے۔
🔹 قانون اور حکومتی تعاون:
اطلاعات کے مطابق حادثے کے بعد مقامی حکام اور پاکستانی سفارت خانے نے ضروری قانونی اور طبی کارروائی مکمل کی۔ تمام ضابطوں کو پورا کرنے کے بعد محمد عبداللہ کی میت کو احترام کے ساتھ پاکستان روانہ کیا گیا، جہاں ان کی تدفین آبائی علاقے بورے والا میں کی جائے گی۔ جہاں پورا خاندان ان کی واپسی کا منتظر تھا، وہاں اب ان کا تابوت پہنچنے پر ہر آنکھ اشکبار ہے۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور سوگوار خاندان کو یہ ناقابلِ تلافی صدمہ برداشت کرنے کا حوصلہ دے۔ آمین!

Comments
Post a Comment