مریدکے میں انسانیت شرما گئی، سرِ بازار خواتین کی تذلیل!
مریدکے میں انسانیت شرما گئی، سرِ بازار خواتین کی تذلیل! پہلے لڑکی کی عزت پامال کر کے بلیک میلنگ کے ذریعے زبردستی نکاح، پھر دوسری شادی کر کے پہلی بیوی پر بدترین تشدد!
انصاف کے لیے دہائیاں، ملزمان تاحال پولیس کی گرفت سے دور!
مریدکے ( کرائم رپورٹر): تھانہ سٹی مریدکے کی حدود تار بازار میں ایک ایسا انتہائی افسوسناک اور انسانیت سوز واقعہ پیش آیا ہے جس نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور معاشرتی اقدار کا جنازہ نکال دیا ہے۔ اہلِ علاقہ اور عینی شاہدین کے مطابق، محلے کے ایک اوباش نوجوان اویس نے دانستہ طور پر ہمسایوں کی معصوم بیٹی کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا اور بعد میں مبینہ طور پر نازیبا ویڈیوز یا تصاویر کے ذریعے بلیک میل کر کے زبردستی نکاح کے بندھن میں جکڑ لیا۔
یہ ظلم یہیں ختم نہیں ہوا، بلکہ نکاح کے محض ایک ماہ بعد ہی ملزم نے دوسری شادی رچا لی اور پہلی شریکِ حیات کو گھر کی لونڈی اور نوکرانی بنا کر اس پر وحشیانہ ظلم و ستم کا بازار گرم کر دیا۔
📌 مطالبہ طلاق پر مشتعل ملزمان کا سرِ بازار وحشیانہ حملہ اور بے حرمتی:
متاثرہ خاندان کے مطابق، جب پانی سر سے گزر گیا اور معصوم بچی پر روز روز کا تشدد ناقابلِ برداشت ہو گیا، تو انہوں نے ملزم اور اس کے گھر والوں سے مطالبہ کیا کہ اگر بچی کو سکھ نہیں دینا تو اسے باعزت طریقے سے طلاق دے کر فارغ کر دیا جائے۔
اس جائز مطالبے پر ملزم اویس اور اس کے مسلح ساتھی شدید مشتعل ہو گئے اور انہوں نے سرِ عام بازار میں متاثرہ خاندان کی خواتین کو گھیر کر ان پر لاٹھیوں اور تھپڑوں کی برسات کر دی۔ عینی شاہدین کے مطابق، سفاک ملزمان نے سرِ بازار چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے خواتین کے کپڑے پھاڑ دیے اور انہیں شدید بے پردہ کیا۔ اس ہولناک منظر کو دیکھ کر اہلِ محلہ نے غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے آگے بڑھ کر مظلوم خواتین کے جسموں کو ڈھانپا اور ان کی جان بچائی۔
📌 وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی "ریڈ لائن" کو چیلنج: متاثرہ خاندان کی دہائی!
اس وحشیانہ واقعے نے مریدکے کے شہریوں کو شدید خوف اور غم و غصے میں مبتلا کر دیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے روتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے فوری اور برائے راست انصاف کی اپیل کی ہے۔
دست بستہ فریاد کرتے ہوئے خاندان کا کہنا تھا:
اگر پنجاب میں خواتین اور بچے واقعی حکومت کی 'ریڈ لائن' ہیں، تو پھر مریدکے کے تار بازار میں ہماری چادر اور چار دیواری کو سرِ عام تار تار کرنے والے درندوں کے خلاف اب تک کوئی سخت ایکشن کیوں نہیں لیا گیا؟
یہ سوال اس وقت پورے مریدکے کے غیور شہریوں کا ہے جو قانون کی بالادستی کے منتظر ہیں۔
📌 مقدمہ تو درج، مگر مرکزی ملزمان تاحال آزاد: پولیس کی کارکردگی پر سوالات!
ذرائع کے مطابق، تھانہ سٹی مریدکے میں واقعے کا مقدمہ تو درج کر لیا گیا ہے، لیکن وقوعہ کو وقت گزر جانے کے باوجود پولیس کی روایتی سستی کے باعث مرکزی ملزم اویس اور اس کے سہولت کاروں کی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی ہے۔
قانون کے رکھوالوں کی اس سستی پر متاثرہ خاندان اور اہلِ علاقہ شدید تشویش اور عدم تحفظ کا شکار ہیں، اور انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو فوری گرفتار کر کے نشانِ عبرت بنایا جائے، ورنہ شدید احتجاج کیا جائے گا۔
ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔
نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Comments
Post a Comment