مظفرآباد میں ضمیر جھنجھوڑ دینے والا واقعہ: 5 ہزار روپے چالان پر غصے میں پاگل ڈرائیور کا انتہائی قدم، مسافر کوسٹر ٹریفک اہلکار سمیت دریائے جہلم میں پھینک دی!

 مظفرآباد میں ضمیر جھنجھوڑ دینے والا واقعہ: 5 ہزار روپے چالان پر غصے میں پاگل ڈرائیور کا انتہائی قدم، مسافر کوسٹر ٹریفک اہلکار سمیت دریائے جہلم میں پھینک دی!

🔥 ٹریفک پولیس کے رویے کے خلاف لواحقین کا شدید احتجاج، سپریم کورٹ کے قریب مرکزی شاہراہ بلاک، گاڑی دریا کے بپھرے ہوئے پانی میں بہہ گئی! 🔥

مظفرآباد (رپورٹ: کرائم رپورٹر) آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں ٹریفک چالان اور پولیس کے مبینہ سخت رویے پر ایک ایسا لرزہ خیز اور انوکھا واقعہ پیش آیا ہے جس نے پورے شہر میں سنسنی پھیلا دی۔ نیو سیکریٹریٹ چھتر نزد سپریم کورٹ آزاد کشمیر کے مقام پر محض 5 ہزار روپے کا چالان ہونے اور گاڑی ضبط کرنے کی کوشش پر ڈرائیور نے طیش میں آ کر ٹریفک اہلکار سمیت مسافر کوسٹر کو براہِ راست بپھرے ہوئے دریائے جہلم میں اتارا دیا۔ واقعے کے نتیجے میں کروڑوں روپے مالیت کی گاڑی تندوتیز لہروں کی نذر ہو گئی، تاہم معجزانہ طور پر ڈرائیور اور ٹریفک اہلکار دونوں کی جانیں بچ گئیں۔



🔹 ٹریفک اہلکار کا کوسٹر پر قبضہ اور ڈرائیور کا خونی غصہ:
ذرائع کے مطابق ٹریفک وارڈن نے قانون کی خلاف ورزی پر کوسٹر کا 5 ہزار روپے کا بھاری چالان کیا اور گاڑی کو باقاعدہ ضبط کرنے کے لیے خود کوسٹر کے اندر سوار ہو گیا۔ ٹریفک اہلکار کے اس سخت رویے اور بار بار کی تکرار سے تنگ آ کر ڈرائیور آپے سے باہر ہو گیا اور اس نے قانون کی گرفت اور روزی روٹی چھننے کے خوف میں ایک انتہائی اور ہولناک قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا۔

🔹 دریا کے اندر گاڑی کی چھلانگ اور معجزانہ بچاؤ:
ڈرائیور نے ٹریفک اہلکار کو سبق سکھانے اور خودکشی کی نیت سے سپریم کورٹ کے قریب تیز رفتار کوسٹر کا رخ دریائے جہلم کی طرف موڑ دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری گاڑی دریا برد کر دی۔ مسافر کوسٹر لہروں کے دوش پر بہتی چلی گئی، لیکن وہاں موجود مقامی لوگوں اور ریسکیو ٹیموں کی بروقت کارروائی کے باعث گاڑی میں موجود ڈرائیور اور ٹریفک اہلکار دونوں کو شدید لہروں سے زندہ سلامت باہر نکال لیا گیا۔

🏥 ہسپتال منتقلی اور ڈرائیور کی حالت:
دریا سے نکالے جانے کے بعد معلوم ہوا کہ ڈرائیور شدید زخمی ہو چکا ہے، جسے فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں اس کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے، جبکہ ٹریفک اہلکار معمولی زخمی ہوا اور محفوظ رہا۔

🚫 مرکزی شاہراہ بلاک، چھتر چوک میں شدید احتجاج:
واقعے کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیلتے ہی ڈرائیور کے مشتعل ورثاء، ٹرانسپورٹرز اور مقامی لوگوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی۔ احتجاجی مظاہرین نے ٹریفک پولیس کے مبینہ ظالمانہ رویے اور بھاری چالاننگ کے خلاف مرکزی شاہراہ 'چھتر چوک' کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ ٹریفک پولیس غریب ڈرائیورز کو بلیک میل کرتی ہے جس کی وجہ سے یہ دلخراش واقعہ پیش آیا۔ سڑک بلاک ہونے سے گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگ گئیں اور شہر کا نظام درہم برہم ہو گیا۔

انتظامیہ اور پولیس کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر مظاہرین کو پرامن کرنے اور شاہراہ کو کھلوانے کے لیے مذاکرات کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔

نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

سچ کہتے ہیں قتل کبھی نہیں چھپتا، قاتل 25 سال بعد قانون کے شکنجے میں!

انتہائی افسوسناک خبر: پاکپتن میں انسانیت لرز اٹھی! اغوا ہونے والی خاتون ٹیچر کی لاش برآمد، پورے علاقے میں کہرام مچ گیا!

بڑی خبر: ہارون آباد میں لرزہ خیز واقعہ، طالبہ نے نوجوان کو موت کے گھاٹ اتار دیا!