حافظ آباد میں سب انسپکٹر، اے ایس آئی اور حوالدار کے خلاف پیپر ٹیمپرنگ کا سنگین مقدمہ درج!
محکمہ پولیس میں "امتحان" کے دوران ہی بڑا ہاتھ!
حافظ آباد میں سب انسپکٹر، اے ایس آئی اور حوالدار کے خلاف پیپر ٹیمپرنگ کا سنگین مقدمہ درج!
ترقیاتی امتحان میں نمبر تبدیل کرنے کی مبینہ ملی بھگت بے نقاب، تینوں اہلکار معطل! محکمے کے اندر کھلبلی مچ گئی۔
حافظ آباد ( کرائم رپورٹر): قانون کے محافظوں کی جانب سے قانون کی دھجیاں اڑانے اور محکمے کے اندر ہی دھوکہ دہی کا ایک انتہائی چونکا دینے والا اور سنگین معاملہ سامنے آیا ہے۔
حافظ آباد پولیس میں ترقیاتی امتحانات
(Departmental Promotion Exams)
کے دوران مبینہ طور پر نمبروں میں ہیر پھیر اور پیپر ٹیمپرنگ کرنے کے جرم میں ملوث تین سینئر پولیس اہلکاروں کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا گیا ہے۔ وفاداری اور دیانت داری کا دعویٰ کرنے والے ان افسران نے اپنے ہی محکمے کے امتحانی ریکارڈ میں ردوبدل کر کے میرٹ کو پامال کرنے کی کوشش کی، جس پر اعلیٰ حکام نے فوری اور سخت ایکشن لیتے ہوئے ان کے خلاف باقاعدہ ایف آئی آر درج کر لی ہے۔
📌 نمبروں کی تبدیلی اور مبینہ ملی بھگت کا ڈراپ سین:
ذرائع کے مطابق، محکمہ پولیس کے اندرونی پروموشن امتحانات کے نتائج کا جب باریک بینی سے جائزہ لیا گیا تو امتحانی پیپرز اور آفیشل ریکارڈ میں واضح ٹیمپرنگ (ردوبدل) پائی گئی۔ تفتیش کے دوران یہ سنسنی خیز انکشاف ہوا کہ امتحانی عملے اور امیدواروں کے درمیان ایک منظم مبینہ ملی بھگت چل رہی تھی، جس کا مقصد نااہل اہلکاروں کو غیر قانونی طور پر نمبر بڑھا کر ترقی دلوانا تھا۔ 📄 ترقی کی ہوس میں اندھے ہو کر ان اہلکاروں نے پورے امتحانی نظام کی شفافیت پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا۔ جیسے ہی یہ اسکینڈل اعلیٰ حکام کے نوٹس میں آیا، تو انہوں نے بغیر کسی دباؤ کے فوری انکوائری کا حکم دیا۔ 🛡️
📌 معطلی کی سزا اور قانون کی گرفت میں آنے والے اہلکار:
محکمانہ انکوائری کی ابتدائی رپورٹ سامنے آتے ہی تینوں نامزد ملازمین کو فوری طور پر عہدوں سے معطل کر کے لائن حاضر کر دیا گیا ہے۔ قانون کی گرفت میں آنے والے افسران کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
سب انسپکٹر طارق عزیز:
جو اس مبینہ ٹیمپرنگ اور ملی بھگت کے مرکزی کرداروں میں شامل بتائے جاتے ہیں۔ 👮♂️
اے ایس آئی علی حیدر:
جن پر امتحانی ریکارڈ میں غیر قانونی ہیر پھیر کا حصہ بننے کا الزام ہے۔ 📝
حوالدار حنیف: جو اس پورے غیر قانونی عمل میں برابر کے شریک پائے گئے۔
📌 کڑا احتساب اور شواہد کی جمع آوری:
حافظ آباد پولیس حکام کے مطابق، معطلی کے ساتھ ہی ان تینوں اہلکاروں کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی (Departmental Action) کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ 📂 تفتیشی ٹیمیں امتحانی سینٹر کے ریکارڈ، سی سی ٹی وی فٹیج اور دیگر تکنیکی و دستاویزی شواہد اکٹھے کر رہی ہیں تاکہ عدالت اور محکمانہ ٹریبونل میں ٹھوس ثبوت پیش کیے جا سکیں۔ ڈی پی او حافظ آباد کا کہنا ہے کہ پولیس فورس کے اندر کالی بھیڑوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے اور یہ کارروائی محکمہ پولیس کے اندر شفافیت، میرٹ کی بحالی اور خود احتسابی (Internal Accountability) کے لیے ایک انتہائی اہم اور سنگین قدم ہے۔ 💥🔒
ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔
نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Comments
Post a Comment