ساہیوال میں سنگین واردات؛ تھانہ یوسف والا کے علاقے سے لڑکی اغوا، ملتان لے جا کر مبینہ گینگ ریپ، مقدمہ درج، ملزمان تفتش کی زد میں
ساہیوال میں سنگین واردات؛ تھانہ یوسف والا کے علاقے سے لڑکی اغوا، ملتان لے جا کر مبینہ گینگ ریپ، مقدمہ درج، ملزمان تفتش کی زد میں
ساہیوال (کرائم رپورٹر): تھانہ یوسف والا کے نواحی علاقے میں امن و امان کی صورتحال اور خواتین کے تحفظ پر سنگین سوالیہ نشان کھڑا ہو گیا۔ چک 66 پانچ ایل میں ایک انتہائی افسوسناک اور لرزہ خیز واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک نوجوان لڑکی کو مبینہ طور پر نشہ آور چیز سنگھا کر اغوا کیا گیا اور بعد ازاں ملتان لے جا کر کئی روز تک محبوس رکھ کر گینگ ریپ کا نشانہ بنایا گیا۔ پولیس نے متاثرہ لڑکی کی مدعیت میں باقاعدہ ایف آئی آر (FIR) درج کر کے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔
اغوا کی واردات اور ملزمان کا طریقہ کار:
تفصیلات کے مطابق، چک 66 پانچ ایل کی رہائشی متاثرہ لڑکی (الف) گزشتہ دنوں گھر پر اکیلی موجود تھی کہ ایک کار (نمبر 185 اے ایف ایکس) پر سوار چار ملزمان، جن کی شناخت افضل، شاکر، شیخ سلیمان اور اقصی کے نام سے ہوئی ہے، وہاں پہنچے۔ ملزمان نے گھر کے دروازے پر دستک دی اور جیسے ہی دروازہ کھولا گیا، انہوں نے مبینہ طور پر زبردستی نشہ آور رومال سنگھا کر لڑکی کو بے ہوش کیا اور گاڑی میں ڈال کر جائے وقوعہ سے فرار ہو گئے۔
ملتان میں محبوس رکھنا اور مبینہ تشدد:
ایف آئی آر کے متن کے مطابق، ملزمان مغویہ کو ساہیوال سے ملتان کے علاقے شمس کالونی بائی پاس پر واقع ایک مکان میں لے گئے، جہاں اسے ایک کمرے میں قید کر دیا گیا۔ متاثرہ لڑکی نے پولیس کو دیے گئے بیان میں الزام عائد کیا ہے کہ وہاں ملزمان باری باری اسے زنا بالکبر کا نشانہ بناتے رہے اور مزاحمت کرنے پر اسے شدید جسمانی تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ ⛓️💔
چنگل سے فرار اور سیکیورٹی اداروں کا ایکشن:
متاثرہ لڑکی مبینہ طور پر ملزمان کی غفلت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے چنگل سے نکل بھاگنے میں کامیاب ہوئی اور فوری طور پر تھانہ یوسف والا پہنچ کر پولیس کو واقعے کی اطلاع دی۔ ساہیوال پولیس نے فوری ایکشن لیتے ہوئے متاثرہ لڑکی کا میڈیکل لیگل ٹیسٹ کروایا اور اس کی رپورٹ کی روشنی میں ملزمان کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 365-بی (اغوا برائے زنا)، 376 (زنا بالجبر) اور 337 (تشدد) کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔
تفتیشی حکام کا باضابطہ موقف:
پولیس کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی سائنسی اور روایتی خطوط پر تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ملزمان کی گرفتاری اور گاڑی کی برآمدگی کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں جو مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہیں۔ حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ملوث عناصر کو جلد ہی قانون کے کٹہرے میں لا کر سخت ترین سزا دلائی جائے گی تاکہ مظلوم خاندان کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔
ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔
نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Comments
Post a Comment