ملتان میں شہنائیاں ماتم میں بدل گئیں!" یکطرفہ محبت میں ناکامی پر سفاک دیور نے آٹھ ماہ کی حاملہ بھابھی کو بے دردی سے قتل کر دیا!
ملتان میں شہنائیاں ماتم میں بدل گئیں!" یکطرفہ محبت میں ناکامی پر سفاک دیور نے آٹھ ماہ کی حاملہ بھابھی کو بے دردی سے قتل کر دیا!
ملتان ( کرائم رپورٹ): شہرِ اولیاء کے علاقے 'گلشنِ مہتاب' میں شادی کی خوشیاں اس وقت اچانک اندوہناک اور ہولناک سانحے میں تبدیل ہو گئیں جب ایک نوجوان نے انتقام کی آگ میں اندھا ہو کر اپنی ہی سگی آٹھ ماہ کی حاملہ بھابھی کو بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا۔
یہ لرزہ خیز اور دل دہلا دینے والا وقوعہ عین اس وقت پیش آیا جب گھر کے صحن میں مقتولہ آمنہ کی چھوٹی بہن فاطمہ کی رخصتی کی تقریب جاری تھی اور پورا گھرانہ جشن میں مصروف تھا۔ 🎻🥀
📌 یکطرفہ محبت کا بھیانک انجام اور رشتے کا انکار:
تفتیشی ذرائع کے مطابق، افسوسناک واقعے کا مرکزی ملزم "عاصم" مقتولہ آمنہ کی چھوٹی بہن فاطمہ سے مبینہ طور پر یکطرفہ محبت کرتا تھا اور اس سے شادی کا خواہش مند تھا۔ تاہم، مقتولہ آمنہ اور اس کے والدین نے ملزم عاصم کے کردار اور دیگر وجوہات کی بنا پر اس رشتے سے صاف انکار کر دیا تھا اور فاطمہ کی شادی کسی دوسری جگہ طے کر دی تھی۔ اسی انکار کا شدید رنج اور طیش ملزم کے ذہن پر سوار تھا اور وہ انتقام کے لیے صحیح موقع کی تلاش میں تھا۔ ملزم نے خوشیوں کے بھرے گھر کو اجاڑنے کا گھناؤنا منصوبہ تیار کیا۔
📌 بند کمرے کا ہولناک ڈرامہ: باہر جشن، اندر دو زندگیاں ختم!
گزشتہ شب جب صحن میں رخصتی کی تیاریاں آخری مراحل میں تھیں، مقتولہ آمنہ اپنی مخصوص حالت (8 ماہ کی حاملہ) ہونے کی وجہ سے تھکن کے باعث اندر کمرے میں آرام کر رہی تھی جبکہ اس کا شوہر فہد باہر مہمانوں کی تواضع اور پنڈال کی گہما گہمی میں مصروف تھا۔ ملزم عاصم نے اس صورتحال کا فائدہ اٹھایا اور خاموشی سے کمرے میں داخل ہو کر دروازہ اندر سے بند کر لیا۔ ملزم نے رشتے کے انکار کا بدلہ لیتے ہوئے نہتی اور بے بس حاملہ آمنہ پر حملہ کیا اور اس کا گلا دبا کر اسے بے دردی سے قتل کر دیا۔ اس سفاکانہ اور وحشیانہ واردات کے نتیجے میں آمنہ اور اس کے پیٹ میں موجود معصوم بچہ موقع پر ہی دم توڑ گئے۔
📌 پنڈال میں شور اور گھر میں کہرام:
باہر پنڈال میں شادی کا شور، ہنسی مذاق اور شہنائیاں گونجتی رہیں جبکہ بند کمرے کے اندر یہ دلخراش کھیل مکمل ہو چکا تھا۔ جیسے ہی شادی کی رخصتی کے وقت مقتولہ کو بلانے کے لیے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا اور اندر کا ہولناک منظر سامنے آیا، تو خوشیوں بھرا گھر سسکیوں اور ماتم میں ڈوب گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی، کرائم سین کو سیل کر کے سائنسی و روایتی شواہد اکٹھے کیے گئے، اور مقتولہ کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے نشتر ہسپتال منتقل کر کے ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنے شروع کر دیے ہیں۔ سیکیورٹی اداروں نے واقعے کی باقاعدہ تفتیش کا آغاز کر دیا ہے، جس نے پورے علاقے کو شدید سوگوار کر دیا ہے۔
شادی کے منڈپ پر دو معصوم جانوں کا خون کرنے والے اس درندے کے خلاف عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے اور ملزم کو سرِعام عبرت ناک سزا دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔
نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Comments
Post a Comment