وہاڑی: 6 سالہ معصوم دعا فاطمہ کے قتل کا خوفناک ڈراپ سین، پولیس چھاپے کے دوران سفاک ملزم محبوب نے خود کو گولی مار کر خودکشی کر لی!

 وہاڑی: 6 سالہ معصوم دعا فاطمہ کے قتل کا خوفناک ڈراپ سین، پولیس چھاپے کے دوران سفاک ملزم محبوب نے خود کو گولی مار کر خودکشی کر لی!

وہاڑی کے علاقے 35 ڈبلیو بی میں رونما ہونے والے معصوم بچی کے لرزہ خیز قتل کے مقدمے میں مطلوب مرکزی ملزم نے قانون کی گرفت سے بچنے کے لیے اپنی زندگی کا بھی خاتمہ کر لیا۔ تھانہ صدر وہاڑی پولیس کی بڑی کارروائی کے دوران گرفتاری کے خوف سے ملزم نے خود پر پستول تان کر فائر کر دیا، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔

🔹 پولیس ریڈ اور سنسنی خیز واقعہ کی تفصیلات:
باوثوق ذرائع اور پولیس رپورٹ کے مطابق، ملزم محبوب تھانہ صدر وہاڑی میں درج 6 سالہ معصوم دعا فاطمہ کے لرزہ خیز قتل کے مقدمہ نمبر 728/26 میں اشتہاری اور پولیس کو شدید مطلوب تھا۔ ایس ایچ او تھانہ صدر وہاڑی حسن آفتاب کیانی کی ہدایت پر پولیس کی ایک خصوصی ریڈنگ ٹیم نے خفیہ اطلاع پر ملزم کی گرفتاری کے لیے تھانہ صدر کے علاقے 35 ڈبلیو بی میں ایک ٹھکانے پر اچانک چھاپہ مارا جہاں ملزم روپوش تھا۔



🔹 پولیس کی سرنڈر کرنے کی اپیل اور ملزم کا انتہائی قدم:
چھاپے کے دوران جب ملزم محبوب نے خود کو پولیس کے حصار میں پایا تو وہ شدید خوفزدہ ہو گیا۔ پولیس کی ریڈنگ ٹیم نے کمالِ پیشہ ورانی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملزم کو ہینڈز اپ کرنے، قانون کے حوالے خود کو کرنے اور سمجھانے کی بھرپور کوشش کی تاکہ اسے زندہ گرفتار کیا جا سکے۔ تاہم، سفاک ملزم نے پولیس کے سامنے سرنڈر کرنے سے صاف انکار کر دیا اور اپنے پاس موجود ناجائز پستول کو اپنی کنپٹی پر تان لیا۔ پولیس اہلکاروں کے روکنے کے باوجود ملزم نے گرفتاری کے ڈر سے ٹریگر دبا دیا۔

🔹 ہسپتال منتقلی اور ہلاکت:
گولی لگنے سے ملزم شدید زخمی ہو کر زمین پر گر پڑا۔ پولیس نے فوری طور پر ریسکیو 1122 کو طلب کیا اور ملزم کو جائے وقوعہ پر ہی ابتدائی طبی امداد دیتے ہوئے ہسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایس ایچ او حسن آفتاب کیانی نے نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ کر ملزم کی ڈیڈ باڈی کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ پولیس نے تمام ضروری اور ضابطے کی قانونی کارروائی شروع کر دی ہے، جس کے مکمل ہونے کے بعد لاش کو پوسٹ مارٹم کے بعد ورثاء کے حوالے کر دیا جائے گا۔

علاقے میں اس وقت شدید سنسنی پھیلی ہوئی ہے اور معصوم بچی کے قتل کے بعد ملزم کے اس انجام پر مقامی لوگ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فوری کارروائی پر اپنے تاثرات کا اظہار کر رہے ہیں۔

ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔

نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

سچ کہتے ہیں قتل کبھی نہیں چھپتا، قاتل 25 سال بعد قانون کے شکنجے میں!

انتہائی افسوسناک خبر: پاکپتن میں انسانیت لرز اٹھی! اغوا ہونے والی خاتون ٹیچر کی لاش برآمد، پورے علاقے میں کہرام مچ گیا!

بڑی خبر: ہارون آباد میں لرزہ خیز واقعہ، طالبہ نے نوجوان کو موت کے گھاٹ اتار دیا!