مظفرآباد: بسترِ مرگ پر موجود بیوہ ماں کی آخری خواہش اور اکلوتے بیٹے کا تاریخی فیصلہ، جس نے ہر آنکھ نم کر دی!
ہر آنکھ اشکبار: مظفرآباد کے نوجوان وکیل نے ہسپتال میں نکاح کر کے بسترِ مرگ پر موجود بیوہ ماں کی آخری خواہش پوری کر دی 😭 اس کے اگلے ہی دن ماں انتقال کر گئی!
مظفرآباد (ویب ڈیسک) آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد سے تعلق رکھنے والے نوجوان قانون دان، سردار فیض مصدق ایڈووکیٹ نے فرماں برداری اور محبت کی ایک ایسی لازوال مثال قائم کر دی ہے جس نے سننے والے ہر شخص کے دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ انہوں نے امبور ہسپتال مظفرآباد کے آئی سی یو (ICU) وارڈ میں، اپنی شدید علیل والدہ کے سامنے سادگی سے نکاح کر کے ان کی زندگی کی آخری ترین تمنا کو پورا کر دیا۔
ایک بیوہ ماں کی اکلوتی امید اور بیٹے کا تاریخی فیصلہ:
ذرائع کے مطابق، سردار فیض مصدق ایڈووکیٹ اپنی والدہ کے اکلوتے بیٹے ہیں اور ان کا کوئی دوسرا بہن بھائی نہیں ہے۔ ان کی والدہ، جو کہ ایک بیوہ خاتون تھیں، نے انتہائی کٹھن حالات میں اپنے بیٹے کی پرورش کی اور ان کا واحد خواب اپنے جیتے جی بیٹے کا گھر بستا دیکھنا تھا۔ ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے دوران جب ڈاکٹرز کی جانب سے ان کی حالت تشویشناک بتائی گئی، تو بیٹے نے روایتی تقریبات، شادی ہال اور بارات کے انتظامات کا انتظار کرنے کے بجائے، اپنی ماں کی خوشی کو اولیت دی۔
انہوں نے ہسپتال کے کمرے میں ہی سادگی کے ساتھ شرعی نکاح کی تقریب منعقد کی، جہاں بسترِ مرگ پر موجود ماں نے اپنی آنکھوں سے اکلوتے بیٹے کو دولہا بنتے دیکھا اور دل کی گہرائیوں سے دعائیں دیں۔
🕯️ آخری دعا اور ابدی رخصت:
قدرت کا کرنا ایسا ہوا کہ اس جذباتی اور یادگار نکاح کے اگلے ہی روز، خاتون اپنے بیٹے کو زندگی کی سب سے بڑی خوشی اور دعائیں دینے کے بعد، خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔ سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں یہ دلدوز مگر سبق آموز کہانی تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔ شہریوں کی ایک بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ جہاں آج کے مادی دور میں رشتوں کی اہمیت کم ہوتی جا رہی ہے، وہاں سردار فیض مصدق نے یہ ثابت کیا کہ ماں کی خوشی اور ان کا احترام دنیا کی ہر آسائش سے بڑھ کر ہے۔
سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے مرحومہ کے درجات کی بلندی، مغفرت اور پسماندگان کے لیے صبرِ جمیل کی دعائیں کی جا رہی ہیں۔ بے شک مائیں آخری سانس تک صرف اپنی اولاد کا ہی بھلا چاہتی ہیں۔

Comments
Post a Comment