حسد کا عبرتناک انجام: لاہور میں عید کے تیسرے روز بھائی نے بھائی کی زندگی کا چراغ گل کر دیا!

 رشتوں کا (ق.ت.ل) ، حسد کا عبرتناک انجام: لاہور میں عید کے تیسرے روز بھائی نے بھائی کی زندگی کا چراغ گل کر دیا!

لاہور (رپورٹ: زونل ڈیسک) صوبائی دارالحکومت کے علاقے باغبان پورہ میں رشتوں کے تقدس کو پامال کرنے والا ایک انتہائی دلخراش اور افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں عید کی خوشیاں اس وقت ماتم میں تبدیل ہو گئیں جب سگے بھائی نے حسد اور خاندانی رنجش کی بنا پر اپنے ہی بھائی کو بے دردی سے( ق.ت.ل) کر دیا۔ یہ ایک ایسی دردناک داستان ہے جسے سن کر انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے اور رشتوں پر سے اعتبار اٹھ جاتا ہے۔

📍 علیحدہ زندگی کا فیصلہ اور محنت کی کمائی:
ذرائع کے مطابق مقتول عمران نے برسوں پہلے شادی کے بعد اپنے بچوں کی بہتر تعلیم و تربیت اور پرسکون ماحول کے لیے خاندان سے الگ رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس نے نہ صرف علیحدہ گھر بسایا بلکہ والد کی جائیداد میں سے بھی اپنے حصے کا مطالبہ نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ نے عمران کی محنت میں برکت ڈالی اور وہ اپنی لگن سے معاشی طور پر مستحکم ہو گیا، جس کی وجہ سے اس نے اپنے بچوں کو زندگی کی تمام تر سہولیات فراہم کر رکھی تھیں۔



حسد کی آگ اور ناجائز فرمائشیں:
دوسری جانب مقتول کے بھائیوں کے مالی حالات اور ان کے بچوں کی تربیت مقتول کی طرح بہتر نہ ہو سکی۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران کی اسی خوشحالی اور کامیابی کو دیکھ کر خاندان میں حسد کی دیواریں کھڑی ہو گئیں۔ بھائی اکثر عمران سے بڑی رقم اور کاروباری سرمائے کا مطالبہ کرتے تھے، جس پر عمران حسبِ استطاعت مدد تو کرتا تھا، لیکن اپنی جمع پونجی کا بڑا حصہ دینے سے انکاری تھا۔ اس کا مؤقف تھا کہ یہ اس کی اپنی دن رات کی محنت کا صلہ ہے جس پر صرف اس کے بچوں کا حق ہے۔

خاندانی بائیکاٹ اور تنہائی:
یہی معاشی اختلافات عمران کے لیے سنگین خطرہ بن گئے۔ اطلاعات کے مطابق اپنی محنت کی کمائی دینے سے انکار پر والدین، بھائی اور بعض بہنیں اس سے سخت ناراض تھیں اور کافی عرصے سے عمران کا سماجی بائیکاٹ کر کے اسے اپنوں کے درمیان ہی تنہا کر دیا گیا تھا۔

باربر چیئر پر( خ.و.نی ح.م.لہ) اور عبرتناک بے حسی:
عید کے تیسرے روز جب عمران محلے کی ایک حجام کی دکان پر بال کٹوا رہا تھا، تو اس کا بھائی عرفان وہاں پہنچا۔ عینی شاہدین کے مطابق ملزم نے آتے ہی باربر چیئر پر بیٹھے عمران پر اندھا دھند( ف.ائ.رنگ) کر دی، جس سے عمران خون میں لت پت ہو کر زمین پر گر پڑا۔ دل دہلا دینے والی بات یہ ہے کہ حملہ آور بھائی تڑپتے ہوئے عمران کو بے حسی سے دیکھتا رہا اور پھر موقع سے فرار ہو گیا۔

جنازے میں بھی اپنوں کی بے رخی:
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 اور پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو ہسپتال منتقل کیا۔ قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے بعد مقتول کی میت بیوہ اور یتیم بچوں کے حوالے کی گئی۔ مقتول کا جنازہ جب اس کے گھر سے اٹھا تو سوائے والدہ اور چند قریبی خواتین کے، مقتول کے والد، بھائی اور بہنیں آخری دیدار اور جنازے میں بھی شریک نہ ہوئیں، جو خون کے سفید ہو جانے کی بدترین مثال ہے۔ 😭💔

⚖️ پولیس کارروائی اور تفتیشی صورتحال:
باغبان پورہ پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر کے ملزم عرفان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنا شروع کر دیے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کی گرفتاری کے بعد ہی اس خونی تصادم کی اصل وجوہات اور مزید حقائق مکمل طور پر سامنے آ سکیں گے۔ بظاہر یہ سانحہ اپنوں کے حسد اور خاندانی رقابت کا شاخسانہ دکھائی دیتا ہے، تاہم حتمی تفصیلات تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے لائی جائیں گی۔

Comments

Popular posts from this blog

سچ کہتے ہیں قتل کبھی نہیں چھپتا، قاتل 25 سال بعد قانون کے شکنجے میں!

انتہائی افسوسناک خبر: پاکپتن میں انسانیت لرز اٹھی! اغوا ہونے والی خاتون ٹیچر کی لاش برآمد، پورے علاقے میں کہرام مچ گیا!

بڑی خبر: ہارون آباد میں لرزہ خیز واقعہ، طالبہ نے نوجوان کو موت کے گھاٹ اتار دیا!