قانون کا رکھوالا ہی محافظ سے لٹرا بن گیا! کوٹ ادو میں کانسٹیبل پر غریب شہری کی اہلیہ سے سنگین زیادتی کا الزام

 قانون کا رکھوالا ہی محافظ سے لٹرا بن گیا! کوٹ ادو میں کانسٹیبل پر غریب شہری کی اہلیہ سے سنگین زیادتی کا الزام، عوامی حلقوں میں شدید تشویش

کوٹ ادو (رپورٹ: زونل ڈیسک) ضلع کوٹ ادو کے علاقے گجرات کی چوکی قصبہ میں تعینات ایک پولیس کانسٹیبل پر غریب خاندان کی لاچارگی اور قانون کے خوف کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک سال تک خاتون کو سنگین زیادتی کا نشانہ بنانے کا انتہائی افسوسناک اور شرمناک الزام سامنے آیا ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر کمزور طبقے کے تحفظ اور بااثر افراد کے خلاف قانونی گرفت پر کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

کسی کو بتایا تو اندر کرا دوں گا
عہدے کا ناجائز استعمال:
متاثرہ خاندان کے مطابق، چوکی قصبہ میں تعینات کانسٹیبل جمیل سیال (بیلٹ نمبر 288/C) نے مبینہ طور پر اپنی وردی اور عہدے کا خوف دکھا کر ایک غریب مزدور کی اہلیہ کو طویل عرصے تک خاموش رہنے پر مجبور کیا۔



 کانسٹیبل متاثرہ خاندان کو مسلسل یہ دھمکی دیتا رہا کہ اگر کسی کو اس بارے میں کانوں کان خبر ہوئی تو وہ انہیں کسی سنگین جھوٹے مقدمے میں پھنسا کر جیل بھجوا دے گا۔ غریب خاندان اسی خوف کی وجہ سے ایک سال تک اس شدید ذہنی اور جسمانی اذیت کو برداشت کرتا رہا۔

رنگے ہاتھوں گرفتاری اور ایک سالہ خاموشی کا خاتمہ:
رپورٹ کے مطابق، یہ افسوسناک سلسلہ اس وقت منظرِ عام پر آیا جب مبینہ طور پر مذکورہ کانسٹیبل کو غریب مزدور کے گھر کے اندر خاتون کے ساتھ نازیبا حالت میں رنگے ہاتھوں پکڑ لیا گیا۔ خاتون کے دیور کا الزام ہے کہ ملزم گزشتہ ایک سال سے ان کے خاندان کو بلیک میل کر رہا تھا اور جب بھی گھر کا سرپراہ مزدوری کے لیے باہر جاتا، ملزم وہاں پہنچ جاتا تھا۔

پولیس کی مبینہ دھمکیاں اور انصاف کے حصول میں رکاوٹ:
متاثرہ خاندان نے یہ سنگین الزام بھی عائد کیا ہے کہ واقعہ سامنے آنے کے بعد مقامی سطح پر کچھ بااثر عناصر اور پولیس اہلکار انہیں میڈیا سے بات کرنے اور قانونی کارروائی آگے بڑھانے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 14 (انسانی وقار کا تحفظ) اور انصاف کی فراہمی میں صریح رکاوٹ (Obstruction of Justice) جیسے سنگین زمرے میں آتا ہے۔

ڈی پی او کوٹ ادو اور آر پی او سے شفاف تحقیقات کا مطالبہ:
اس مبینہ واقعے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ متاثرہ خاندان نے ڈی پی او (DPO) کوٹ ادو اور آر پی او (RPO) ڈیرہ غازی خان سے فوری طور پر واقعے کا نوٹس لینے، ملزم کانسٹیبل کے خلاف سخت دفعات کے تحت مقدمہ (FIR) درج کرنے اور معاملے کی بالکل شفاف و غیر جانبدارانہ انکوائری کرانے کی پرزور اپیل کی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور سماجی حلقوں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وردی کی آڑ میں ایسے کالی بھیڑوں کو سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ قانون کا وقار برقرار رہ سکے۔

Comments

Popular posts from this blog

سچ کہتے ہیں قتل کبھی نہیں چھپتا، قاتل 25 سال بعد قانون کے شکنجے میں!

انتہائی افسوسناک خبر: پاکپتن میں انسانیت لرز اٹھی! اغوا ہونے والی خاتون ٹیچر کی لاش برآمد، پورے علاقے میں کہرام مچ گیا!

بڑی خبر: ہارون آباد میں لرزہ خیز واقعہ، طالبہ نے نوجوان کو موت کے گھاٹ اتار دیا!