پاکستان کے اگلے 5 سال آئی ایم ایف کے چنگل میں گزرنے کا خدشہ: 123 ارب ڈالر کی بیرونی فنانسنگ کی تفصیلات سامنے آ گئیں!
پاکستان کے اگلے 5 سال آئی ایم ایف کے چنگل میں گزرنے کا خدشہ: 123 ارب ڈالر کی بیرونی فنانسنگ کی تفصیلات سامنے آ گئیں!
ملکی معیشت کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور تشویشناک خبر سامنے آئی ہے، جس کے مطابق پاکستان کے اگلے 5 سالوں تک عالمی مالیاتی ادارے (IMF) کے قرضوں کے متبادل ذرائع تلاش کرنے اور اس کے چنگل سے نکلنے کے امکانات انتہائی محدود ہو چکے ہیں۔ سرکاری دستاویزات اور باوثوق ذرائع کے مطابق، پاکستان کو اگلے 5 سالوں کے دوران اپنے مالیاتی معاملات چلانے اور پرانے قرضوں کی ادائیگی کے لیے مجموعی طور پر 123 ارب ڈالر کی خطیر بیرونی فنانسنگ کی ضرورت ہوگی۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان قرضوں کی واپسی اور ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے پاکستان کو موجودہ پروگرام کے بعد ایک بار پھر آئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑ سکتا ہے۔
📍 موجودہ پروگرام کا خاتمہ اور سالانہ مالی ضروریات:
ذرائع کے مطابق پاکستان کا آئی ایم ایف کے ساتھ جاری 7 ارب ڈالر کا موجودہ قرض پروگرام اگلے سال ستمبر یا اکتوبر میں اپنے اختتام کو پہنچ جائے گا۔ دستاویزات میں آنے والے سالوں کے لیے پاکستان کی سالانہ بیرونی مالی ضروریات کا جو تخمینہ لگایا گیا ہے، وہ کچھ یوں ہے:
🔹 نئے مالی سال میں بیرونی مالی ضروریات کا تخمینہ 21.2 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔
🔹 مالی سال 2027-28ء میں یہ بیرونی مالی ضروریات اپنے ریکارڈ ترین لیول یعنی 29 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔
🔹 مالی سال 2028-29ء کے دوران پاکستان کو تقریباً 23 ارب 59 کروڑ ڈالر کی بیرونی فنانسنگ درکار ہوگی۔
🔹 مالی سال 2029-30ء میں ملکی معیشت کو سنبھالنے کے لیے 22 ارب ڈالر کی ضرورت کا تخمینہ ہے۔
🔹 مالی سال 2030-31ء میں یہ بیرونی مالی ضروریات ایک بار پھر بڑھ کر 26 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔
📉 کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی صورتحال:
دستاویزات میں ملکی معاشی اشاریوں کے حوالے سے مزید بتایا گیا ہے کہ اگلے مالی سال کے دوران پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 3.6 ارب ڈالر رہنے کا تخمینہ ہے۔ اتنی بڑی رقم کے خسارے اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کی وجہ سے ملکی معیشت پر بوجھ برقرار رہے گا، جس کے نتیجے میں مستقبل میں بھی کڑی معاشی اصلاحات اور نئے قرضوں کا حصول ناگزیر دکھائی دیتا ہے۔
معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ملک میں برآمدات، براہ راست بیرونی سرمایہ کاری (FDI) اور سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر میں کوئی غیر معمولی اور انقلابی اضافہ نہ ہوا، تو پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کے بغیر اپنی بیرونی ادائیگیاں بروقت کرنا ناممکن حد تک مشکل ہو جائے گا۔

Comments
Post a Comment