جنوبی ایشیا میں ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ: بھارت اور پاکستان کے پاس کتنے وار ہیڈز موجود ہیں؟

 جنوبی ایشیا میں ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ: بھارت اور پاکستان کے پاس کتنے وار ہیڈز موجود ہیں؟

اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کی تازہ ترین سالانہ رپورٹ نے خطے میں جوہری توازن اور بڑھتے ہوئے دفاعی بجٹ پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، جنوبی ایشیا کے دو ایٹمی پڑوسی ممالک اپنے جوہری پروگراموں کو تیزی سے جدید اور وسیع کرنے میں مصروف ہیں۔

رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2026 تک، بھارت کے پاس تقریباً 190 جبکہ پاکستان کے پاس 170 ایٹمی وار ہیڈز موجود ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک اپنی دفاعی صلاحیتوں کو 'نیوکلیئر ٹرائڈ' (زمین، فضا اور سمندر سے ایٹمی حملہ کرنے کی صلاحیت) کے مطابق ڈھال رہے ہیں۔

حکمت عملی کا موازنہ:
بھارت کی جانب سے 'نو فرسٹ یوز' (No First Use) کی پالیسی اپنائی گئی ہے، جس کا مرکز چین اور پاکستان دونوں ہیں۔ دوسری جانب پاکستان کی جوہری حکمتِ عملی مکمل طور پر بھارت مرکوز ہے، جس میں ضرورت پڑنے پر پہلے وار کرنے کا آپشن بھی شامل ہے۔



بھارت کے پاس رافیل، میراج طیارے، اگنی میزائل سیریز اور آئی این ایس اریہانت جیسی آبدوز موجود ہیں۔ جبکہ پاکستان کے پاس ایف 16، جے ایف 17 طیارے اور شاہین و غوری میزائل سسٹم موجود ہیں، اور سمندری حدود میں جوہری صلاحیت کو بڑھانے پر کام جاری ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

سچ کہتے ہیں قتل کبھی نہیں چھپتا، قاتل 25 سال بعد قانون کے شکنجے میں!

انتہائی افسوسناک خبر: پاکپتن میں انسانیت لرز اٹھی! اغوا ہونے والی خاتون ٹیچر کی لاش برآمد، پورے علاقے میں کہرام مچ گیا!

بڑی خبر: ہارون آباد میں لرزہ خیز واقعہ، طالبہ نے نوجوان کو موت کے گھاٹ اتار دیا!