کرور لعل عیسن: پولیس کی تیز ترین کارروائی، کے اندھے (قت.ل) کا معمہ 24 گھنٹوں میں حل، ملزمان گرفتار
کرور لعل عیسن: پولیس کی تیز ترین کارروائی، کے اندھے (قت.ل) کا معمہ 24 گھنٹوں میں حل، ملزمان گرفتار
لیہ کی تحصیل کرور لعل عیسن میں اندھے (قت.ل) کا ایک انتہائی افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جس کا معمہ ایس ایچ او کرور ہارون رندھاوا نے محض 24 گھنٹوں کے اندر اپنی پیشہ ورانہ مہارت سے حل کر لیا ہے۔
چند روز قبل نوشی بھائی نامی ایک معصوم اور بے ضرر شہری کو سفاکی سے (قت.ل) کر دیا گیا تھا۔ ابتدائی طور پر اس کیس میں کوئی سراغ نہ ملنے کے باعث اسے اندھا (قت.ل) قرار دیا جا رہا تھا۔ ڈی پی او لیہ نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ایس ایچ او ہارون رندھاوا کو ملزمان کی فوری گرفتاری کی ہدایت کی تھی۔
ذرائع کے مطابق ایس ایچ او ہارون رندھاوا نے اسے ایک چیلنج کے طور پر قبول کیا اور دن رات ایک کر کے جدید تفتیشی ذرائع کی مدد سے سراغ لگایا۔ تحقیقات کے دوران یہ لرزہ خیز انکشاف ہوا کہ مقتول کے (قت.ل) میں ملوث کوئی اجنبی نہیں بلکہ ان کا اپنا سگا بیٹا 'عاشر' اور اس کا دوست 'سجی سواگ' ہیں۔
واقعے کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ ملزم بیٹا نہ صرف اپنے والد کی آخری رسومات میں شامل رہا بلکہ اس نے خود اپنے والد کی نمازِ جنازہ بھی پڑھائی۔ پولیس نے ملزمان سے آلہ (قت.ل) اور واردات میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل بھی برآمد کر لی ہے۔
مقامی آبادی نے ایس ایچ او ہارون رندھاوا کی اس کارکردگی کو سراہا ہے کہ انہوں نے قل خوانی سے قبل ہی قاتلوں کو قانون کی گرفت میں لے لیا۔ ملزمان کو مزید تفتیش کے لیے حراست میں لے کر قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

Comments
Post a Comment