اللہ اکبر: امانتاً دفن کردہ میت کی حفاظت کا معجزہ! مٹی نے اللہ کے حکم سے امانت کی رکھوالی کر لی
اللہ اکبر: امانتاً دفن کردہ میت کی حفاظت کا معجزہ! مٹی نے اللہ کے حکم سے امانت کی رکھوالی کر لی
پنجاب کے ایک شہر میں پیش آنے والا ایک دل دہلا دینے والا مگر ایمان افروز واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے دیکھنے والوں کی آنکھیں نم کر دی ہیں۔ دو ہفتے قبل ایک المناک ٹریفک حادثے میں ایک نوجوان زندگی کی بازی ہار گیا تھا۔ بدقسمتی سے، متوفی کے پاس کوئی شناختی دستاویزات موجود نہ تھیں اور فنگر پرنٹس کے ذریعے بھی شناخت ممکن نہ ہو سکی۔
حادثے کے بعد لاش کو ہسپتال کے سرد خانے میں امانتاً رکھوا دیا گیا۔ پولیس کی جانب سے ایک ہفتے تک قریبی تھانوں اور دیگر ذرائع سے کوشش کی گئی کہ متوفی کے خاندان کا سراغ مل سکے، مگر تمام کوششیں ناکام رہیں۔ بالآخر، ایدھی فاؤنڈیشن اور پولیس حکام نے قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے نوجوان کو مقامی قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا۔
قضا و قدر کے فیصلے دیکھیے، دفنانے کے مزید دو ہفتے بعد کچھ افراد نے پولیس سے رابطہ کیا کہ ان کا پیارا ایک ماہ سے لاپتہ ہے۔ جب پولیس نے انہیں حادثے میں جاں بحق نوجوان کی تصاویر دکھائیں تو وہ پہچان کر دھاڑیں مار کر رونے لگے۔ وہ لاپتہ نوجوان کے ہی ورثاء نکلے۔
جب ورثاء نے میت کو اپنے آبائی علاقے منتقل کرنے کے لیے قانونی اجازت کے بعد قبر کشائی کی، تو وہاں موجود ہر شخص پر سکتہ طاری ہو گیا۔ قبر کے اندر کا منظر کسی معجزے سے کم نہ تھا۔ کفن پر ڈالی گئی گلاب کی پتیاں تاحال تروتازہ تھیں، میت کا چہرہ بالکل ویسا ہی تھا جیسے تدفین کے وقت تھا، اور قبر میں کسی قسم کی تعفن یا کیڑے مکوڑوں کا کوئی نام و نشان نہ تھا۔ اللہ کی قدرت کا یہ منظر دیکھ کر وہاں موجود ہر آنکھ اشکبار تھی اور فضا "اللہ اکبر" کی صداؤں سے گونج اٹھی۔
بے شک، جو امانت اللہ کے سپرد کر دی جائے، اس کی حفاظت خود ربِ کائنات فرماتا ہے۔ ☝️📖

Comments
Post a Comment