ملتان سے مری جانے والے خاندان کا خواب بکھر گیا: 10 افراد کی المناک موت نے پورے پاکستان کو سوگوار کر دیا...
ملتان سے مری جانے والے خاندان کا خواب بکھر گیا: 10 افراد کی المناک موت نے پورے پاکستان کو سوگوار کر دیا
مری ایکسپریس وے پر کجھوٹ کے مقام پر پیش آنے والا حادثہ محض ایک ٹریفک حادثہ نہیں، بلکہ ایک ایسا لرزہ خیز سانحہ ہے جس نے انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ملتان سے خوشیوں کی تلاش میں نکلنے والا ایک ہنستا بستا خاندان چند لمحوں میں موت کی آغوش میں چلا گیا۔
واقعے کی تفصیلات کے مطابق، 23 مسافروں پر مشتمل وین مری کے پہاڑوں کا نظارہ کرنے نکلی تھی، لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ گاڑی موڑ کاٹتے ہوئے سڑک سے نیچے گہری کھائی میں جا گری، جس کے فوراً بعد انجن میں آگ بھڑک اٹھی۔ گاڑی الٹی ہونے کے باعث اس کا سلائیڈنگ دروازہ جام ہو گیا، جس کی وجہ سے اندر موجود مسافر باہر نہ نکل سکے۔ اس دلخراش واقعے میں 4 بچوں سمیت 10 افراد زندہ جل کر جاں بحق ہوئے، جبکہ 13 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔
اس واقعے کا سب سے تکلیف دہ پہلو ملتان کے حسن پروانہ قبرستان میں سامنے آیا، جہاں 10 قبریں کھودی جا رہی ہیں۔ گورکن کے مطابق، اس خاندان نے 6 سال قبل 10 قبروں کی جگہ خریدی تھی، تب کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ زمین ایک دن ان کے پورے خاندان کی آخری آرام گاہ بنے گی۔ آج یہ قبریں، جو کبھی کسی کے مستقبل کا منصوبہ تھیں، ایک پورے خاندان کی آخری منزل بن چکی ہیں۔
واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے انتظامیہ کی جانب سے تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہماری سیاحتی شاہراہوں پر حفاظتی معیارات اتنے کمزور ہیں کہ ایک چھوٹی سی غلطی یا اوور اسپیڈنگ پورے خاندان کی تباہی کا سبب بن جائے؟ سڑکوں کی خستہ حالی، حفاظتی دیواروں کا فقدان اور گاڑیوں کی فٹنس پر ناقص چیکنگ جیسے سوالات اب عوام کی زبان پر ہیں۔ سیاحت کے فروغ کے دعوے اپنی جگہ، لیکن کیا سیاحوں کی زندگیوں کی حفاظت ہماری ترجیحات میں شامل ہے؟
اس المناک سانحے نے ہر آنکھ اشکبار کر دی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مرحومین کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے اور سوگوار خاندانوں کو یہ ناقابلِ تلافی نقصان برداشت کرنے کا حوصلہ عطا فرمائے۔ آمین۔

Comments
Post a Comment