چوہدری الیاس جٹ چونٹھیا کی زندگی کا وہ سنہرا اور رقت آمیز واقعہ جس نے سب کو رولا دیا، غریبوں کے ہمدرد کی یادیں تازہ
اگر آپ کا کوئی بیٹا نہیں، تو میں آپ کا بیٹا ہوں! چوہدری الیاس جٹ چونٹھیا کی زندگی کا وہ سنہرا اور رقت آمیز واقعہ جس نے سب کو رولا دیا، غریبوں کے ہمدرد کی یادیں تازہ
فیصل آباد/ جڑانوالہ (رپورٹ: ویب ڈیسک) معاشرے میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کے رخصت ہو جانے کے بعد بھی ان کے حسنِ سلوک اور عوامی خدمات کے قصے لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔ ایسی ہی ایک ہردلعزیز اور نڈر شخصیت چوہدری الیاس جٹ چونٹھیا (بندیشہ) کی تھی، جن کے انتقال کے بعد ان کے ڈیرے پر پیش آنے والے ایک واقعے نے سوشل میڈیا صارفین اور عوامی حلقوں کی آنکھیں نم کر دی ہیں۔ یہ کہانی ایک ایسے سچے واقعے پر مبنی ہے جو ان کی غریب پروری اور مظلوموں کی حمایت کی عکاسی کرتی ہے۔
مجھے لمبی عمر کی دعا نہ دو! انٹرویو کا وہ تاریخی جملہ:
چوہدری الیاس جٹ چونٹھیا اپنی بے باکی اور حقیقت پسندی کے لیے جانے جاتے تھے۔ ایک یادگار انٹرویو کے دوران جب میزبان نے انہیں دعا دیتے ہوئے کہا کہ اللہ آپ کو سلامت رکھے اور لمبی عمر دے، تو انہوں نے انتہائی عاجزی سے جواب دیا: "سدا بادشاہی سوہنے رب کی ہے، مجھے لمبی عمر کی دعا نہ دو، میرا تو ایک گھڑی کا بھی بھروسہ نہیں ہے۔ مجھے بس یہ دعا دو کہ جب بھی دنیا سے جاؤں، چلتا پھرتا رخصت ہو جاؤں اور کسی کا محتاج نہ ہوں"۔ ان کا یہ جملہ ان کی دنیا سے بے رغبتی اور خودداری کا منہ بولتا ثبوت تھا۔
ڈیرے پر بزرگ کا رو رو کر برا حال، چار بیٹیوں کی شادی کا مسئلہ:
کہا جاتا ہے کہ جس روز چوہدری الیاس جٹ کا انتقال ہوا، تو ان کے ڈیرے پر تعزیت کے لیے آنے والوں میں ایک بزرگ (بابا جی) بھی شامل تھے جو مسلسل زار و قطار رو رہے تھے۔ وہاں موجود دیگر افراد نے جب ان سے رونے کی وجہ اور ان کا تعارف پوچھا، تو بابا جی نے روتے ہوئے ایک ایسا واقعہ سنایا جس نے وہاں موجود ہر شخص کا دل دہلا دیا۔ بابا جی نے بتایا کہ ان کی چار بیٹیاں ہیں اور کوئی بیٹا نہیں ہے۔ بیٹیوں کی شادی کے اخراجات پورے کرنے کے لیے انہوں نے اپنے گاؤں میں زمین کا ایک ٹکڑا کچھ بااثر اور طاقتور لوگوں کو بیچا تھا۔ خریداروں نے بیانہ تو دے دیا، لیکن اپنی طاقت کے بلبوتے پر باقی رقم دینے سے صاف مکر گئے۔
جب بااثر لوگوں کے سامنے غریب کا بازو بنے:
مایوسی کے عالم میں کسی نے بزرگ کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی فریاد لے کر چوہدری الیاس جٹ بندیشہ کے ڈیرے پر جائیں۔ بزرگ جب وہاں پہنچے اور اپنا مسئلہ بیان کیا، تو چوہدری صاحب نے انہیں تسلی دی اور ان کا فون نمبر لے لیا۔ کچھ دنوں بعد چوہدری الیاس جٹ خود اس غریب بزرگ کے گاؤں پہنچ گئے۔ انہوں نے وہاں جا کر بزرگ کو بلایا، لیکن روایتی مہمان نوازی یا کھانا کھانے کے بجائے اصرار کیا کہ: میں نے کچھ نہیں کھانا، آپ بس مجھے فوری طور پر ان لوگوں کے گھر لے جائیں جو آپ کے پیسے دبا کر بیٹھے ہیں۔
تین گھنٹے ہیں، جسے مرضی بتا دو کہ الیاس جٹ آیا ہے!
جب چوہدری الیاس جٹ ان بااثر لوگوں کے ڈیرے پر پہنچے، تو انہوں نے انتہائی سنجیدہ اور رعب دار انداز میں خریداروں سے کہا: "آپ کے پاس صرف تین گھنٹے کا وقت ہے، آپ نے جس کو بھی بتانا ہے بتا دیں کہ چوہدری الیاس آیا ہے۔ اگر علاقے کا کوئی ایک بندہ بھی مجھے کہہ دے کہ الیاس جٹ کے آنے پر پیسے نہیں دینے، تو میں یہیں سے واپس چلا جاؤں گا اور بابا جی کو رقم اپنی جیب سے دوں گا"۔ چوہدری صاحب کا یہ رعب اور غریب کی پشت پناہی دیکھ کر ان بااثر افراد نے اسی وقت ڈر کر بزرگ کی تمام بقایا رقم ان کے حوالے کر دی۔
❤️ اگر کوئی بیٹا نہیں ہے، تو میں آپ کا بیٹا ہوں!
رقم کی واپسی کے بعد چوہدری الیاس جٹ نے واپس آتے ہوئے بزرگ کا ہاتھ تھاما اور تاریخی الفاظ کہے: اگر بعد میں کبھی بھی ان لوگوں نے آپ کو دوبارہ تنگ کرنے کی کوشش کی، تو آپ نے مجھے فوراً فون کرنا ہے۔ اگر دنیا میں آپ کا کوئی بیٹا نہیں ہے، تو آج سے میں آپ کا بیٹا ہوں۔ یہ سن کر بزرگ کے آنسو رک نہ سکے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم چوہدری الیاس جٹ کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کی غریب پروری کو ان کے لیے توشہ آخرت بنائے۔ آمین!

Comments
Post a Comment