پنجاب میں زمینوں کا دستی ریکارڈ ختم: 30 جون سے 'گرین سرٹیفکیٹ' کا اجرا لازمی قرار
پنجاب میں زمینوں کا دستی ریکارڈ ختم: 30 جون سے 'گرین سرٹیفکیٹ' کا اجرا لازمی قرار
پنجاب حکومت اور بورڈ آف ریونیو نے اراضی ریکارڈ کے نظام میں ایک تاریخی اصلاحات کا اعلان کر دیا ہے۔ صوبے بھر میں زمینوں کے نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ 30 جون کے بعد پٹوار خانوں سے روایتی اور ہاتھ سے لکھی جانے والی مینوئل فرد کا اجرا مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا۔
اب شہریوں کو زمین کی ملکیت کے ثبوت کے طور پر جدید اور کمپیوٹرائزڈ "گرین سرٹیفکیٹ لیٹر" (Green Certificate Letter) جاری کیا جائے گا۔ حکومتی حکام کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد اراضی ریکارڈ میں ہونے والی جعل سازی، ریکارڈ میں ہیر پھیر اور زمین کے دیرینہ تنازعات کا سدِباب کرنا ہے۔
30 جون کی ڈیڈ لائن کے بعد دستی نظام کی قانونی حیثیت ختم ہو جائے گی۔ اب شہری اپنی اراضی کا ریکارڈ اور فرد حاصل کرنے کے لیے درج ذیل مقامات سے رجوع کر سکتے ہیں:
📍 پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی (PLRA) کے کمپیوٹرائزڈ اراضی ریکارڈ سینٹرز
📍 تمام ای خدمت مراکز
📍 پی ایل آر اے کی آن لائن موبائل ایپ اور آفیشل پورٹل
شہری بائیومیٹرک تصدیق کے ذریعے آسانی سے اپنے گھر بیٹھے بھی یہ خدمات حاصل کر سکیں گے۔ یہ ڈیجیٹل اقدام نہ صرف پٹوار خانوں کے چکروں سے نجات دلائے گا بلکہ رشوت خوری اور بدعنوانی کے خاتمے میں بھی اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔

Comments
Post a Comment