یہاں تو سبھی دل جلے ہیں! ڈسکہ کے سرکاری ہسپتال کی لیڈی ڈاکٹر کا عجیب و غریب واقعہ، ریٹائرڈ سب انسپکٹر کی زبانی ایک سبق آموز کہانی

 یہاں تو سبھی دل جلے ہیں! ڈسکہ کے سرکاری ہسپتال کی لیڈی ڈاکٹر کا عجیب و غریب واقعہ، ریٹائرڈ سب انسپکٹر کی زبانی ایک سبق آموز کہانی 📑🤔

ڈسکہ (رپورٹ: زونل ڈیسک) ہمارے معاشرے میں اکثر سرکاری ملازمین کی ذاتی زندگی کے مسائل اور نفسیاتی الجھنیں ان کے پیشہ ورانہ فرائض پر اس طرح اثر انداز ہوتی ہیں کہ عام لوگ اور دیگر محکمے شدید مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک انتہائی دلچسپ اور حیرت انگیز واقعہ ڈسکہ کے ایک سرکاری ہسپتال کا سامنے آیا ہے، جسے ریٹائرڈ سب انسپکٹر شیخ ضمیر حسین نے اپنے ماضی کے تجربات کی روشنی میں شیئر کیا ہے۔

"میں اپنی بہن کو (ق.ت.ل ) کر آیا ہوں"۔ جرم کی حیران کن رپورٹ:
ریٹائرڈ سب انسپکٹر شیخ ضمیر حسین کے مطابق، یہ واقعہ سال 2008 کا ہے جب وہ تھانہ ڈسکہ میں بطور تفتیشی افسر تعینات تھے۔ ایک دن وہ اپنے ماتحت عملے کے ساتھ ڈیوٹی پر موجود تھے کہ ایک نوجوان تھانے آیا اور اس نے اعترافِ جرم کرتے ہوئے بتایا کہ وہ مبینہ طور پر غیرت کے نام پر اپنی جوان بہن کی جان لے چکا ہے۔ پولیس نے فوری قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے ملزم کو حراست میں لیا، متوفیہ کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا اور قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے باڈی کو ہسپتال منتقل کر دیا۔



⏳ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں پانچ دن کی تاخیر اور لیڈی ڈاکٹر کا اصرار:
واقعے کے بعد تدفین تو عمل میں آ گئی، لیکن کیس کا چالان عدالت میں پیش کرنے کے لیے درکار اہم ترین میڈیکل رپورٹ (پوسٹ مارٹم رپورٹ) کئی روز گزرنے کے باوجود پولیس کو نہ مل سکی۔ تفتیشی افسر شیخ ضمیر حسین نے خود ہسپتال کے کئی چکر لگائے اور اپنے اہلکاروں کو بھی بھیجا، مگر وہاں تعینات لیڈی ڈاکٹر ہر بار "کل آنا" کہہ کر ٹال دیتی رہیں۔ پانچ دن کی مسلسل تاخیر کے بعد جب تفتیشی افسر دوبارہ ڈاکٹر کے پاس پہنچے اور چالان جمع کرانے کی مجبوری بتائی، تو لیڈی ڈاکٹر نے ان کا سرکاری اسکیل (گریڈ) پوچھا۔

"17 ویں اسکیل سے کم کے ملازم کو رپورٹ نہیں ملے گی"۔ عجیب شرط:
جب شیخ ضمیر حسین نے بتایا کہ وہ 14 ویں اسکیل کے ملازم ہیں، تو لیڈی ڈاکٹر نے رپورٹ دینے سے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ دستاویز صرف کسی 17 ویں اسکیل یا اس سے بڑے افسر کو ہی ہینڈ اوور کریں گی۔ یہ عجیب و غریب مطالبہ سن کر تفتیشی افسر دنگ رہ گئے، کیونکہ یہ ممکن نہیں تھا کہ ایک رپورٹ حاصل کرنے کے لیے اے ایس پی (ASP) کو زحمت دی جاتی۔

"شوہر کا بدلہ مریضوں سے"۔ ڈاکٹر کی نفسیاتی الجھن کا انکشاف:
تفتیشی افسر جب مایوس ہو کر کمرے سے باہر نکلے، تو ہسپتال کے ایک لیب ٹیکنیشن نے ان کی رہنمائی کی۔ چائے کے دوران جب اس گولڈ میڈلسٹ لیڈی ڈاکٹر کے رویے کے بارے میں پوچھا گیا، تو ٹیکنیشن نے انکشاف کیا کہ موصوفہ اپنی ذاتی اور گھریلو زندگی میں شدید مسائل کا شکار رہی ہیں، شوہر سے علیحدگی (طلاق) کے بعد ان کا پورا مزاج چڑچڑا ہو چکا ہے اور وہ اپنی اس ذاتی تلخی کا غصہ اکثر ہسپتال کے عملے، مریضوں اور لواحقین پر نکالتی ہیں۔ بعد ازاں، اسی ٹیکنیشن نے ایم ایس (MS) کے تعاون سے وہ رپورٹ شام تک خود تھانے پہنچا کر معاملہ حل کروایا۔

نظام کی کمزوری اور کیس کا انجام:
اس عدالتی اور قانونی چکر کا انجام بھی روایتی انداز میں ہوا، جہاں ملزم کو جیل تو بھیج دیا گیا لیکن کچھ ہی ہفتوں بعد والدین نے اپنے بیٹے کو معاف کر دیا، جس کے بعد وہ قانونی طور پر رہا ہو گیا۔ یہ واقعہ جہاں ہمارے تفتیشی نظام کی سست روی کو ظاہر کرتا ہے، وہاں یہ بھی بتاتا ہے کہ حساس عہدوں پر کام کرنے والے افراد کی ذہنی و نفسیاتی صحت کتنی اہمیت رکھتی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

سچ کہتے ہیں قتل کبھی نہیں چھپتا، قاتل 25 سال بعد قانون کے شکنجے میں!

انتہائی افسوسناک خبر: پاکپتن میں انسانیت لرز اٹھی! اغوا ہونے والی خاتون ٹیچر کی لاش برآمد، پورے علاقے میں کہرام مچ گیا!

بڑی خبر: ہارون آباد میں لرزہ خیز واقعہ، طالبہ نے نوجوان کو موت کے گھاٹ اتار دیا!